ٹیگ کے محفوظات: فوجی آپریشنوں کی وجہ سے شدت پسند تنظیمیں کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی

سوات، بونیر اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد ایک مرتبہ پھر منظم ہورہے ہیں


سوات، بونیر اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد ایک مرتبہ پھر منظم ہورہے ہیں

سوات سمیت دیگر علاقوں میں حکومتی رٹ کمزور ہونے کے بعد طالبان دہشت گرد دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرنے لگے ہیں ان خیالات کاا ظہار اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے فیرز شاہ ایڈوکیٹ کی فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ میاں افتخار نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کی روک تھام میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، سوات، بونیر اور دیگر علاقوں میں حکومت کی نااہلی کی وجہ سےطالبان دہشت گرد ایک مرتبہ پھر منظم ہورہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کی خاتمے کے لئے موثرپالیسی بنائیں، سوات میں امن ہزاروں قربانیوں کے بعد ملی ہے یہاں پر ٹارگٹ کیلنگ ناقابل برداشت ہے ، میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ فیروز شاہ ایڈوکیٹ کی قاتلوں کو فوری طورپر گرفتارکرکے علاقے میں بے چینی کو دور کیاجائیں۔

اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ فوجی آپریشنوں کی وجہ سے شدت پسند تنظیمیں کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ بدستور ملک کے کسی بھی حساس مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینیئر تجزیہ کار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دہشت گرد ایک مرتبہ پھر آرمی پبلک سکول کی طرح ایک اور حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن شاید پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ شہروں میں شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ بدستور فعال ہے چاہے وہ خیبر پختونخوا اور پنچاب میں ہوں یا ملک کے دیگر حصوں میں۔

ڈاکٹر خادم حسین کے بقول مرکز اور صوبوں کو مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اس کی ذمہ داری لینے ہوگی ورنہ آنے والے دنوں میں پھر سے ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں

دہشتگر پھرحملہ کر سکتے ہیں۔ دہشتگرد کمزور ضرور ہوئے ہیں مگر ختم نہ ہوئے ہیں۔
ضرب عضب کی کاروائیاں اتنی تیز اور موثر انداز میں کی گئی کہ چند ماہ کے دوران ہی لوگوں کا اعتماد بحال ہوگیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ شاید شدت پسندوں کو پھر سے اٹھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ان کاروائیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔لیکن حالیہ دنوں میں ایسا تاثر مل رہاتھا کہ شاید دہشتگرد پھر سے منظم ہونے کی کوششوں میں ہیں۔
دہشتگردوں کا وہ نیٹ ورک جس نے قومی اور علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھا تھا، کافی حد تک بکھر گیا ہے، لیکن مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا ہے۔ اب بھی ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں سے مزاحمت ہورہی ہے، اور دہشتگرد اپنے ان ٹھکانوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جبکہ کئی نے افغان سرحد کے دوسری جانب پناہ لے لی ہے۔فوجی آپریشن کے نتیجے میں ملک میں دہشتگردوں کی پرتشدد کارروائیوں میں انتہائی کمی آ چکی ہے۔پاکستان کے لئے یہ عملی طور پر ممکن نہ ہے کہ وہ ملک کے چپہ چپہ پر فوجی کھڑے کر دے۔.
سوات میں اِس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے، پاکستان کے اندر اِس تنظیم کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے، جن علاقوں سے یہ تنظیم آپریٹ کر رہی تھی، وہاں بھی اب اس کا وجود نہیں، اِس تنظیم کی اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور اب اس کے ارکان تتر بتر ہیں۔ ضرب عضب کاروائیاں اتنی تیز اور موثر انداز میں کی گئی کہ چند ماہ کے دوران ہی لوگوں کا اعتماد بحال ہوگیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ شاید شدت پسندوں کو پھر سے اٹھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ان کاروائیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کو  اپنے دہشتگردانہ ایجنڈے کی تکمیل کے لئے داخلی طور پر مختلف شہروں، دہاتوں،قصبوں اور فاٹا کے دورافتادہ اور شہروں سے ملحقہ ’’خفیہ ٹھکانوں‘‘ سے افرادی ، رہائشی اورلاجسٹک سپورٹ ملتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے دہشتگردی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔