میلہ چراغاں



میلہ چراغاں

                                -

شاہ حسینؒ اکبری عہد کے جلیل القدر صوفی اور عظیم الفکر عالم دین تھے۔ اُن کے علوم کی دھوم پورے ہندوستان میں مچی ہوئی تھی۔ شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین کو صوفیانہ شاعری کا دوسرا بڑا ستون گردانا جاتا ہے.شاہ حسین کے عرس کو میلہ چراغاں اور میلہ شالامار بھی کہا جاتا ہے۔ ماضی قریب تک یہ میلہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا کلچرل فیسٹول گردانا جاتا تھا۔ مادھولال حسین کے عرس پر ملک بھر سے ملنگ جمع ہوتے ہیں اور اس میلے کو ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع کہا جاتا ہے۔پنجابی شاعری میں کافیوں کی بنیاد رکھنے والے عظیم صوفی شاعر شاہ حسین کے 415ویں عرس کی تقریبات آج سے لاہورمیں شروع ہوگئی ہیں۔

سن 1538 میں اندرون لاہور پیدا ہونے والے مست الست صوفی شاعر شاہ حسین نے اپنی کافیوں کی بنیاد راگ راگنیوں پر رکھی۔ شاہ حسین کا کلام ہر اس دل کی دھڑکنیں تیز کر دیتا ہے،جس میں رتی بھر بھی عشق کا جذبہ موجود ہو۔یہ میلہ کب اور کیوں شروع ہوا اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس بات کے شواہد ضرور ملتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں سکھوں کے دور میں بھی یہ میلہ منایا جاتا تھا۔

                                                                         -

راجہ رنجیت سنگھ خود اپنے درباریوں کے ساتھ اس میلے میں شریک ہوتا تھا۔ اور باغبانپورہ میں شاہ حسین کے دربار پر گیارہ سو روپے اور ایک جوڑا بسنتی چادروں کا چڑہاوے کے طور پر دیا کرتا تھا۔

یہ میلہ موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا تھا۔ تقسیم ہند سے قبل اس میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میلے کا پھیلاؤ دہلی دروازے سے لے کر شالامار باغ تک ہوا کرتا تھااور زائرین کی کثیر تعداد شاہ حسین کے مزار پر چراغ جلایا کرتی تھی اور منتیں مانا کرتی تھی۔ اسی مناسبت سے اس کا نام میلہ چراغاں پڑ گیا۔

AF8D8019-5C6E-4BDC-A1BD-32D1E07A27B5_w640_r1_s

شاہ حسین کا عرس ہر سال رجب کی پہلی تاریخ کو ہوا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ عرس اور میلہ ایک ہی وقت میں اکٹھے ہو گئے تب سے اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ عرس اور میلہ ہمیشہ اکٹھے ہی منائے جائیں گے اور اس مقصد کے لئے مارچ کا آخری ہفتہ مختص کیا گیا۔

اس موقع پر شاہ حسین کے بارے میں مختصراً بتاتا چلوں کہ وہ سلسلہ قادریہ سے فیض یاب ہوئے اور زندگی کے اولین چھتیس سال شریعت کے مطابق اور زہدو عبادت میں گزارے۔

80026_big

                         -

ایک روز قرآن کی تفسیر پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے ترجمہ ’دنیا ایک کھیل کود کے سوا کچھ نہیں‘ اس آیت کا شاہ حسین پر ایسا اثر ہوا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لال کپڑے پہن، داڑھی مونچھ منڈوا کر گانا بجانا اور پینا پلانا شروع کر دیا اور فقیروں کے ملامتیہ فرقے میں شامل ہو گئے اور زندگی کے بقیہ ستائیس برس جذب و سکر کی حالت میں گزارے۔

                    index

اسی دور میں شاہ حسین کو ایک برہمن ہندو لڑکے مادھو لال سے عشق ہو گیا اسی عشق کی وجہ سے لوگ شاہ حسین کو شاہ حسین کی بجائے مادھو لال حسین کہنے لگے۔ مادھو نےبھی سر تسلیم خم کیا اور باقی تمام عمر شاہ حسین کی مریدی میں گزار دی۔

راوی لکھتا ہے کہ ایک روزشاہ حسین اسی جذب و مستی کی حالت میں چھت سے گرے اور داعئی عدم ہو گئے۔ شاہ حسین کو پہلے مادھو لال نے اپنے علاقے شاہدرے میں دفنایا مگر (شاہ حسین کی پیشین گوئی کے مطابق) بارہ برس بعد سن سولہ سو تیرہ میں جب دریائے راوی نے اپنا رخ بدلا تو مادھو لال نے شاہ حسین کو شاہدرے سے نکال کر باغبانپورہ میں دفن کیا اور اپنی باقی ماندہ زندگی مزار کی مجاوری میں گزار دی۔ اور جب مادھو سن سولہ سو چھتیس میں فوت ہوا تو اس کی قبر بھی شاہ حسین کے برابر میں بنائی گئی۔

شروع سے لے کر سن انیس سو پچاس تک میلہ چراغاں یا مادھو لال حسین(شاہ حسین) کا عرس شالا مار باغ میں ہوا کرتا تھا مگر بعد میں شالا مار باغ کی تخریب کو مد نظر رکھتے ہوئے میلے کو جی ٹی روڈ اور باغبانپورہ تک محدود کر دیا گیا۔
ہمیشہ کی طرح اس سال بھی ستائیس، اٹھائیس اور انتیس مارچ کو میلہ چراغاں منایا جائے گا جو شاہ حسین کا چار سو سولہواں عرس بھی ہے۔ اس سال بھی میلے کے آغاز کے ساتھ ہی مداری،سرکس والے، ڈھولچی، ناچے، مٹھائی والے اور دیگر دکانوں والے وہاں اپنے کاروبار کے اڈے جما لیتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار لوگوں کا روزگار اس میلے سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہ میلہ عوام کو محض تفریح فراہم نہیں کرتا اورنہ ہی خالصتاً عرس کی طرح منایا جاتا ہے بلکہ تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو)

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/04/040402_mela_chiraghan_si.shtml

Advertisements

“میلہ چراغاں” پر 2 تبصرے

  1. میں جب انجنیئرنگ کالج لاہور (اب یونیورسٹی) میں پڑھتا تھا تو میری رہائش 3 سال ای ہوسٹل کے شمالی حصہ میں رہی ۔ میلہ چراغاں کے دنوں میں رات کو شور کی وجہ سے ہمارا پڑھنا مشکل ہوتا تھا ۔ ہم نے جو کچھ اُس زمانہ میں مادھو لال حسین اور میلے کے متعلق سُنا وہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ناقابلِ قبول تھا ۔ بی بی سی والے نے مادھو اور شاہ حسین دو افراد بتائے ہیں ۔ مگر ہمیں تو ہر ایک نے یہ بتا یا تھا کہ ایک شخص مادھو لال تھا جو اپنے حال میں مست رہنے لگ گیا تھا بقول لوگوں کے صوفی بن گیا تھا اور لوگ اُسے لال حسین کہنے لگ گئے تھے ۔ یہ شخص جب مر گیا تو ہندو کہتے تھے کہ اُسے جلایا جائے گا اور مسلمان کہتے تھے کہ اسے دفن کیا جائے گا ۔ بالآخر مادھو لال کی لاش غائب ہو گئی ۔ پھر لاش پر ڈالے آدھے پھول ہندو لے گئے اور اس کی چتا جلائی اور آدھے پھول مسلمانوں نے دفن کر دیئے ۔ حقیقت اللہ جانتا ہے ۔ اللہ اس نقل کرنے پر مجھے معاف فرمائے ۔ میلہ چراغاں ایک الگ تھلگ معاملہ تھا جو ماضی کے کسی تقاضے کے باعث کسی وقت مادھو لال کی قبر پر آن پہنچا ۔ باقی قبریں جو وہاں تھیں ان کے متعلق کوئی کچھ نہ جانتا تھا
    میں 1953ء سے پنجابی شاعری پڑھتا آ رہا ہوں اور اُردو شاعری بھی کافی پڑھی ہے ۔ میں نے اُستاد امام دین اور اُستاد دامن کی پنجابی اور اردو ملی پنجابی شاعری پڑھی ہے ۔ بی بی سی والے نے مادھو لال حسین یا شاہ حسین کی شاعری کی بات کی ہے جو میرے لئے بالکل نئی ہے ۔ کیا آپ نے کہیں مادھو لال حسین کی شاعری پڑھی ہے ۔ اگر حوالہ دے دین تو میں بھی مستفید ہو جاؤں

  2. جناب بھوپال صاحب:
    بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔آپ کے کمنٹس بڑے خیال افروز ہیں۔آپ کے کمنٹس پڑہنے کے
    بعد میں نے مزید ریسرچ کی اور ایک آدہ مضمون جو میرے ہاتھ لگے کافی معلومات افروز ہیں اور اس کے ساتھ ہی میں شاہ حسین کا کچھ کلام معہ اردو ترجمہ بھی ہے۔میں نے دونوں مضمون کالم میں لگا دیئے ہیں :

    عشقِ الٰہی کے جذبے سے سرشار، مادھو لال حسین
    http://www.tajziat.com/issue/2010/04/detail.php?category=taj&id=7
    http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-03-30/3077#.UylNDLTs4tY
    کلامَ حضرت شاہ حسینٌ (ترجمہ اور تشریح)
    .http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%8E-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%B4%D8%A7%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%D9%8C-%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D8%AD.53933/

    http://www.oururdu.com/forums/index.php?threads/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%B4%D8%A7%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%D9%8C.15961/

تبصرے بند ہیں۔