کوئٹہ بم دھماکے میں 3 فورسز اہلکار ہلاک، حزب الاحرار نے ذمہ داری قبول کرلی


کوئٹہ میں پاکستانی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے۔دھماکے کے بعد ایمولینسز موقع پر پہنچ گئیں اور  دھماکے میں زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا۔پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں  بلیلی کے قریب فورسزکی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا خیزمواد موٹرسائیکل میں نصب تھا  اور  دھماکے میں 8 سے 9 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔دریں اثنا حزب الاحرار کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسفزئی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں ایف سی کے تین اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حواس باختہ ادارے میڈیا میں اپنا نقصان چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔http://thebalochistanpost.com/2019/11/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d9%85-%d8%af%da%be%d9%85%d8%a7%da%a9%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-3-%d9%81%d9%88%d8%b1%d8%b3%d8%b2-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1-%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9%d8%8c/

دہشتگردی اور بم دہماکے حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔

حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔

بدلہ لینا جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی ہے ۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست یا حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔

ننگرہار کی مسجد میں دھماکے، 65 نمازی شہید، 100سے زائد زخمی


ننگرہار کی مسجد میں دھماکے، 65 نمازی شہید، 100سے زائد زخمی

 افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں2 بم دھماکوں سے 65 نمازی شہید اور 100سے زائد زخمی ہوگئے ۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ننگر ہار میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں2 بم دھماکوں کے بعد 65 نمازی شہید اور 100سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے اس قدر خوفناک اور شدید تھے کہ مسجد کے شیشے ٹوٹ گئے اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا، ریسکیو اداروں نے فوری شہید اور زخمی ہونے والوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا ۔زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بیان کی جارہی ہے ۔ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،ننگرہار پولیس کے سربراہ نے کہاہے کہ دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ننگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے اندر رکھے دھماکا خیز مواد کے نتیجے میں کئی دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ مساجد امن کا گہوارہ ہیں،مساجد پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے دہشتگردوں کو مسجد کی حرمت کا بھی کوئی خیال نہ ہے

داعش اس واقعہ کا ذمہ دار ہے۔

دہشتگردی اور بم دہماکے حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ معاشرہ میں فتنہ و فساد پھیلاتےہیں ۔ داعش خوارج بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں۔ کسی بے گناہ کی جان لینا ظلم عظیم ہے جو کسی بے گناہ کو قتل کریں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں ۔ کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ داعش خوارج انسانیت کے دشمن ہیں۔ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔( المائدہ 32:05

نبی کریم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

القائدہ راہنما عاصم عمر کی ہلاکت


القائدہ راہنما عاصم عمر کی ہلاکت

القاعدہ برصغیر کے راہنما کو افغانستان، ہلمند کے علاقہ موسی قلعہ میں طالبان کے کمپاونڈ میں  دیگر 6 ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک کیا گیا۔ عاصم عمر پاکستانی تھے، لیکن بعض رپورٹس کے مطابق وہ اتر پردیش ،انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور نوے کی دہائی کے آخر میں پاکستان آئے تھے۔ وہ القاعدہ سے پہلے حرکت الجہاد الاسلامی کے رکن تھے اور اس گروپ کے القاعدہ کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے عاصم عمر نے بعد میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی۔ القائدہ  پاکستا ن اور افغانستان میں کافی حد تک ،اسامہ بن لادن کی  ہلاکت کے بعد کمزور ہوگئی تھی۔عاصم عمر کی ہلاکت سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی  ہے اور اب اس کا خاتمہ یقینی  ہو گیا ہے۔

حالات گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان  و افغانستان کا علاقہ اب القائدہ کے لئے محفوظ نہ رہا ہے کیونکہ القاعدہ کے بے شمار لوگ یہاں مارے جا چکے ہیں یا گرفتار ہوچکے ہیں۔

 القائدہ ایک  مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے اور اسامہ ان مجرموں کا سردار تھا۔ القائدہ  کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور القائدہ کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

جلال آباد شہر دھماکے میں ایک بچے سمیت 10 شہری ہلاک ، 27 مزید زخمی


جلال آباد شہر دھماکے میں ایک بچے سمیت 10 شہری ہلاک ، 27 مزید زخمی

ننگرہار کے صوبائی دارالحکومت جلال آباد شہر میں ایک دھماکے میں ایک بچے سمیت دس شہری ہلاک اور کم از کم 27 دیگر زخمی ہوگئے۔ صوبائی حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق ، یہ دھماکہ شہر کے تیسرے ضلع میں مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے ہوا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹرسائیکل افغان فوج کے محکمہ بھرتی کے منی بس کے قریب پھٹی۔ طالبان  کی دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی گردی ہے۔ بیگناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب ۔دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا،  بم دھماکے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کہاں کی بہادری ہے؟

افغانستان میں ہسپتال اور انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر پر ٹرک بم حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت 20 افراد ہلاک،85 زخمی


افغانستان میں ہسپتال اور انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر پر ٹرک بم حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت 20 افراد ہلاک،85 زخمی

افغانستان کے صوبے زابل میں ایک ہسپتال اور انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر کے قریب ٹرک بم دھماکے میں عورتوں اور بچوں سمیت 20 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہوگئے۔افغان میڈیا کے مطابق زابل کے مرکزی شہر قلات میں حساس ادارے این ڈی ایس کی عمارت
کے قریب بم دھماکا ہوا۔
خودکش حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں

افراد ہلاک اور 85 زخمی ہوگئے۔
لاشوں اور زخمیوں کوہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ دھماکا ایک ہسپتال کے قریب ہوا۔ حملہ آور حساس ادارے کے دفتر کو نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن وہاں پہنچنے میں ناکام رہا جس کے بعد اس نے ایک ہسپتال کے قریب دھماکا کردیا۔ ہلاک اور زخمیوں میں خواتین، بچے، طبی عملہ، مریض اور ان کے تیماردار شامل ہیں۔طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسی کو نشانہ بنایا ہے۔
طالبان کی دہشتگردی، خودکش حملے اور بم دہماکے اسلام میں جائز نہیں۔طالبان اپنے اقتدار کے حصول کے لئے جنگ میں مصروف ہیں، لہزا یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی ہے۔ خود کش حملے شریعت کی رو سے حرام اور اسلام کے منافی ہیں۔ ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے۔ بیگناہ انسانیت کا ناحق قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے۔ نہتے انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے اور قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوپر شفقت نہ کرےـ”

افغان صدر کی ریلی پر بم حملے میں 48 افراد جاں بحق، اشرف غنی محفوظ


افغان صدر کی ریلی پر بم حملے میں 48 افراد جاں بحق، اشرف غنی محفوظ

افغانستان کے شمالی صوبہ پروان میں صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے قریب دھماکے میں 48 افراد

جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے۔

 

افغان صدر کی ریلی پر بم حملے میں 48 افراد جاں بحق، اشرف غنی محفوظ پڑھنا جاری رکھیں

طالبان ، امن کانفرنس کی منسوخی کے ذمہ دار


طالبان ، امن کانفرنس کی منسوخی کے ذمہ دار

أفغانستان کے امن مزاکرات منسوخ ہو چکے ہیں اور اب یہ بحث جاری ہے کہ کس فریق کی وجہ سے یہ مزاکرات منسوخ ہوئے ہیں۔ امن ہر حالت میں جنگ سے بہترہوتا ہے اور ان مذاکرات کی وجہ سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ شاید اب أفغانستان میں امن کا قیام ممکن ہو جائے گا اور أفغانستان کے جنگ سے متاثرہ عوام کو جنگ سے سے کچھ ریلیف ملے گا۔

طالبان ، امن کانفرنس کی منسوخی کے ذمہ دار پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك

%d bloggers like this: